| 09.01.2009 | 05:00 UTC
سلامتی کونسل کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ پٹی کے علاقے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک ایسی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے جس میں اسرائیل اور حماس سے فوری طور پر حملے روک دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس قرارداد میں غزہ پٹی کے عوام کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ 15 رکنی سلامتی کونسل میں اس قرار داد کے حق میں 14 ووٹ ڈالے گئے جبکہ امریکہ وہ واحد ملک تھا جس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے مطابق اپنی رائے محفوظ رکھنے کےباوجود امریکہ اس قرار داد کے مندرجات کا حامی ہے اور خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ قرارداد کی دستاویز میں فوری اور پائیدار جنگ بندی کے بعد غزہ پٹی کے علاقے سے اسرائیلی افواج کی واپسی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
بان کی مون کی طرف سے عالمی ادارے کے امدادی قافلے پر گولہ باری کی مذمت
اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل بان کی مون نے عالمی ادارے کے ایک امدادی قافلے پر غزہ پٹی میں اسرائیل کی طرف سے کئے گئے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بان کی مون نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ اسرائیلی حکام کے ساتھ قریبی رابطے رکھے ہوئے ہے اور اس واقعے کی مکمل چھان بین کے علاوہ مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کے دہرائے جانے کو لازمی طور پر روکا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے اس امدادی قافلے پر ایک اسرائیلی ٹینک سے کی گئی گولہ باری میں ایک مال بردار گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا جس کے بعد عالمی ادارے نے متاثرہ فلسطینی شہریوں کو امدادی سامان کی فراہمی سے متعلق جملہ کارروائیاں مجبورا روک دی ہیں۔ دریں اثناء غزہ پٹی میں قریب دو ہفتوں سے جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 770 کے قریب ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی 3100 سے تجاوز کرچکی ہے۔ اسی جنگ میں کل جمعرات کے روز پہلی مرتبہ اسرائیل پر لبنان سے بھی راکٹ حملے کئے گئے تھے۔
یوکرائن میں غیرجانبدار مبصرین کی تعیناتی پر یورپی، روسی اتفاق رائے
روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹین اور چیک وزیر اعظم میریک ٹوپولانیک کے بیانات کے مطابق قدرتی گیس کی قیمتوں اور فراہمی سے متعلق یوکرائن میں یورپی یونین کے مبصرین کی فوری تعیناتی سے متعلق اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک چیک جمہوریہ کی حکومت نے پراگ میں جاری کردہ ایک اعلان میں کہا کہ ان مبصرین کی فوری تعیناتی کے ذریعے یوکرائن کےراستے روسی گیس کی مغربی یورپی ملکوں کو فراہمی بہت جلد بحال ہوجائے گی۔ اس بارے میں یورپی، روسی اتفاق رائے ولادیمیر پوٹین اور میریک ٹوپولانیک کے مابین ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں ہوا۔
القاعدہ کے سرکردہ لیڈر الکینی کی ہلاکت کا امریکی دعویٰ
انسداد دہشت گردی کے امریکی محکمے کے ایک اعلی اہلکار کے مطابق پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے مسلح کارروائیوں کے نگران اور سرکردہ عسکریت پسند اسامہ الکینی کو اس کے ایک ساتھی کے ہمراہ ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس امریکی اہلکار کی رائے میں الکینی دیگر حملوں کے علاوہ اسلام آباد میں گذشتہ برس ستمبر میں میریٹ ہوٹل پر 55 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے دہشت گردانہ حملوں کے بھی مرکزی منصوبہ ساز تھے۔ اس اہلکار نے القاعدہ کےاس سرکردہ رہنما کی مبینہ موت کی مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی معیشت کئی سالہ کساد بازاری کے خطرے سے دوچار
نومنتخب امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق امریکی معیشت اس وقت کئی سالہ کساد بازاری کے خطرے سے دوچار ہے اور ان خطرات کے تدارک کے لئے واشنگٹن حکومت کو وسیع تر اقتصادی اقدامات کرنا ہوں گے۔ واشنگٹن کے قریب Fairfax کے مقام پر ایک تقریب سے خطاب میں باراک اوباما نے امریکی معیشت کی بحالی کے اپنے اس پروگرام کے بنیادی نکات کی وضاحت کی جس پر وہ 20 جنوری کے روز صدارتی حلف برداری کے بعد عمل کرنا چاہتے ہیں۔ نومنتخب صدر کے بقول ان کے تجویز کردہ اس معیشی استحکامی پروگرام کی مجموعی مالیت قریب 950 بلین یورو تک ہوسکتی ہے۔
جرمنی کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی بینک جزوی طور پر ریاستی ملکیت میں
معیشی بحران کے پس منظر میں پیدا ہونے والے دباؤ کے تحت وفاق جرمنی پہلی مرتبہ براہ راست ملک میں ایک بڑے نجی بینک میں حصہ دار بن گیا ہے۔ جرمنی میں ریاستی ملکیت میں کام کرنے والے بینکاری فنڈ نے ملک کے دوسرے سب سے بڑے مالیاتی ادارے Commerzbank کوہنگامی بنیادوں پر 10 بلین یورو مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ بینک مزید مالی مشکلات کا شکار نہ ہو۔ اس کے بدلے میں جرمن ریاست اس ادارے کے 25 فیصد حصص کی مالک بن جائے گی۔
مالیاتی بحران کے سبب جرمن برآمدات میں ریکارڈ ماہانہ کمی
اپنی برآمدات کے حوالے سے دنیا کی سب سے کامیاب معیشت سمجھے جانے والےملک جرمنی کو اپنی مصنوعات کی بیرون ملک طلب میں کمی کا سامنا ہے۔ گذشتہ برس نومبر میں جرمن برآمدات کی مالیت میں ایک سال پہلے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریبا 12 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی۔ شہر ویز باڈن میں قائم وفاقی دفتر شماریات کے مطابق گذشتہ 15 برسوں میں ماہانہ بنیادوں پر جرمن برآمدات میں کمی کی یہ سب سے بڑی شرح بنتی ہے۔ پچھلے سال اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں جرمن برآمدات کا مجموعی حجم 10.6 فیصد کم رہا۔
عالمی معیشی نظام میں اصلاحات کے حق میں یورپ کا دباؤ
یورپی ممالک عالمی معیشی نظام میں اصلاحات کے سلسلے میں اپنے دباؤ میں مسلسل اضافہ کرتے جارہے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پیرس میں ایک بین الاقوامی مالیاتی کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ لندن میں اپریل کے اوائل میں ہونے والی 20 کے گروپ کی سربراہی کانفرنس میں عالمی سطح پر زیادہ سماجی نوعیت کی کھلی منڈی کی معیشت سے متعلق ضابطے واضح ہونا شروع ہوجانا چاہیئں۔جرمن چانسلر نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرز پر عالمی ادارے کی ایک معیشی کونسل کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے نام لئے بغیر امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں صدی میں اب ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک ملک کا مؤقف ہی سب سے زیادہ فیصلہ کن رہے۔
کوسٹاریکا میں زلزلے میں دو افراد ہلاک، متعدد زخمی
کوسٹا ریکا میں رشٹر سکیل پر 6.2 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ زلزلے کے ان بہت طاقتور جھٹکوں کے نتیجے میں بیسیوں عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔ اس زلزلے کا مرکز کوسٹا ریکا کے دارالحکومت سان خوسے سے شمال مغرب کی طرف سطح زمین سے 30 کلومیٹر کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا۔
امریکہ کے کئی شمال مغربی علاقے سیلابوں کی زد میں
امریکہ کے شمال مغرب میں شدید بارشوں کے بعد متعدد علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ ریاست واشنگٹن میں حکام نے ہزار ہا شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ زیرآب علاقوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہوجانے کی صورت میں وہ اپنے گھروں سے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوجائیں۔ متاثرہ علاقوں میں بہت سی شاہراہیں زیر آب آجانے کے بعد بند کی جاچکی ہیں اوربہت سے دریاؤں میں سیلابوں سے متعلق تنبیہات بھی جاری کردی گئی ہیں۔
انسانی حقوق کی یورپی عدالت کا روس مخالف فیصلہ
انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے چیچنیہ میں عام شہریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین نوعیت کے چھ مختلف واقعات میں روسی ریاست کی مذمت کی ہے۔ اس سلسلے میں عدالت نے ا پنا فیصلہ چیچنیہ کے 18 ایسے باشندوں کے لواحقین کے ایماء پر دائر کئے جانے والے مقدمات میں سنایا جنہیں روسی دستوں نے 2002 اور 2004 کے درمیان کئے جانے والے آپریشن کے دوران گرفتار کرلیا تھا۔ ان 18 میں سے 11 افراد کی مسخ شدہ اور جلی ہوئی لاشیں بعد ازاں ریاست کے مختلف حصوں سے ملی تھیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب اشیائے خوراک کی قلت کا خطرہ
ایک تازہ مطالعے کے مطابق رواں صدی کے آخر تک ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو اشیائے خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین کی تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق اشیائے خوراک کی اس ممکنہ کمی کا سبب کم زرعی پیداوار ہوگی۔ زرعی پیداوار میں اس کمی کے ممکنہ اسباب ماحولیاتی تباہی کے نتیجے میں درجہ حرارت میں کافی زیادہ اضافہ اور اس وجہ سے پانی کی کمی ہوسکتے ہیں۔










